شمشیر بے نیام
سیدنا خالد بن ولیدؓ کی حیات پر
عنایت اللہ التمش کے قلم سے لا زوال تحریر
قسط نمبر: 64
یہ عراق کا علاقہ
تھا ۔جہاں عیسائیوں کا ایک بہت بڑا قبیلہ بکر بن وائل آباد تھا۔یہ لوگ عرب کے رہنے
والے تھے۔ اسلام پھیلتا چلا گیا اور یہ عیسائی جو اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے
عراق کے اس علاقے میں اکھٹے ہوتے رہے اور یہیں آباد ہو گئے۔ ان میں وہ بھی تھے جو
کسی وقت ایرانیوں کے خلاف لڑے اور جنگی قیدی ہو گئے تھے۔ ایرانیوں نے انہیں اس علاقے
میں آباد ہونے کیلئے آزاد کر دیا تھا۔ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اسلام قبول
کر لیا تھا۔ انہیں مثنیٰ بن حارثہ جیساقائد مل گیا تھا جس نے انہیں پکا مسلمان بنادیا
تھا۔ مسلمانوں پر تو ایرانی بے پناہ ظلم و تشدد کرتے تھے لیکن عیسائیوں کے ساتھ ان
کا رویہ کچھ بہتر تھا۔ مؤرخوں نے لکھا ہے زرتشتی سالار اندرزغر ہرمز کی طرح ظالم نہیں
تھا۔ مسلمانوں پر اگر وہ ظلم نہیں کرتا تھا تو انہیں اچھا بھی نہیں سمجھتا تھا۔ عیسائیوں
کے سا تھ اس کا سلوک بہت اچھا تھا۔ اسے اب عیسائیوں کی مدد کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس
نے ان کے قبیلے بکر بن وائل کے بڑوں کو بلایا۔ وہ اطلاع ملتے ہی دوڑے آئے۔
’’اگر تم میں سے کسی کو میرے خلاف شکایت ہے تو مجھے بتاؤ۔‘‘ … اندرزغر
نے کہا۔ … ’’میں اس کا ازالہ کروں گا۔‘‘
’’کیایہ بہتر نہیں ہوگا کہ سالار ہمیں فوراًبتا دے کہ ہمیں کیوں بلایا
گیا ہے۔‘‘ … ایک بوڑھے نے کہا۔ … ’’ہم آپ کی رعایا ہیں۔ہمیں شکایت ہوئی بھی تو نہیں
کریں گے۔‘‘
’’ہمیں کوئی شکایت نہیں۔‘‘ … ایک اور نے کہا۔ … ’’آپ نے جو کہنا ہے
وہ کہیں۔‘‘
’’مسلمان بڑھے چلے آ رہے ہیں۔‘‘ … اندرزغر نے کہا۔ … ’’شہنشاہَِ فارس
کی فوج انہیں فرات میں ڈبو دے گی۔ لیکن ہمیں تمہاری ضرورت ہے۔ ہمیں تمہارے جوان بیٹوں
کی ضرورت ہے۔‘‘
’’اگر شہنشاہِ فارس کی فوج اسلامی فوج کو فرات میں ڈبو دے گی تو آپ
کو ہمارے بیٹوں کی کیا ضرورت پیش آ گئی ہے؟‘‘ … وفد کے بڑوں میں سے ایک نے پوچھا۔
… ’’ہم سن چکے ہیں کہ فارس کی فوج کے چار سالار مارے گئے ہیں۔ آپ ہم سے پوچھتے کیوں
ہیں؟ ہم آپ کی رعایا ہیں، ہمیں حکم دیں۔ ہم سرکشی کی جرات نہیں کر سکتے۔‘‘
’’میں کسی کو اپنے حکم کا پابند کرکے میدانِ جنگ میں نہیں لے جانا چاہتا۔‘‘
… اندرزغر نے کہا۔ … ’’ میں تمہیں تمہارے مذہب کے نام پر فوج میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔
ہمیں زمین کے کسی خطے کیلئے نہیں اپنے مذہب اور اپنے عقیدوں کے تحفظ کیلئے لڑنا ہے۔
مسلمان صرف اس لئے فتح پر فتح حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے مذہب کی خاطر
لڑ رہے ہیں۔ وہ جس علاقے کو فتح کرتے ہیں وہاں کے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کیلئے کہتے
ہیں۔ جو لوگ اسلام قبول نہیں کرتے ان سے مسلمان جزیہ وصول کرتے ہیں۔‘‘
’’کیا یہ غلط ہے کہ تم میں وہ بھی ہیں جو اس لئے اپنے گھروں سے بھاگے
تھے کہ وہ اسلام قبول نہیں کرنا چاہتے تھے؟ کیا تم پسند کرو گے کہ مسلمان آجائیں اور
تمہاری عبادت گاہوں کے دروازے بند ہو جائیں؟ کیا تم برداشت کر لو گے کہ مسلمان تمہاری
بیٹیوں کو لونڈیاں بنا کر اپنے ساتھ لے جائیں؟ …ذرا غور کرو تو سمجھو گے کہ ہمیں تمہاری
نہیں بلکہ تمہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ ہم تمہیں ایک فوج دے رہے ہیں۔ اسے اور زیادہ
طاقتور بناؤ اور اپنے مذہب کو ایک بے بنیاد مذہب سے بچاؤ۔‘‘
اندرزغرنے عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف ایسا مشتعل کیا کہ وہ
اسی وقت واپس گئے اور (مؤرخوں کی تحریر کے مطابق) اپنے قبیلے کی ہر بستی میں جاکر
اعلان کرنے لگے کہ مسلمانوں کا بہت بڑا لشکر قتل و غارت اور لوٹ مار کرتا چلا آ رہا
ہے۔ وہ صرف اسی کوبخشتے ہیں جو ان کا مذہب قبول کر لیتا ہے۔ وہ جوان اور کم سن لڑکیوں
کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔
’’اپنی لڑکیوں کو چھپا لو۔‘‘
’’مال ودولت زمین میں دبا دو۔‘‘
’’عورتیں بچوں کو لے کر جنگلوں میں چلی جائیں۔‘‘
’’جوان آدمی ہتھیار گھوڑے اور اونٹ لے کر ہمارے ساتھ آ جائیں۔‘‘
’’شہنشاہِ فارس کی فوج ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
’’یسوع مسیح کی قسم! ہم اپنی عزت پر کٹ مریں گے۔‘‘
’’اپنا مذہب نہیں چھوڑیں گے۔‘‘
ایک شور تھا، للکار تھی جو آندھی کی طرح دشت و جبل کو جن و
انس کو لپیٹ میں لیتی آ رہی تھی۔ کوئی بھی کسی سے نہیں پوچھتا تھا کہ یہ سب کیا ہے؟
کس نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کا لشکر آ رہا ہے؟ کدھر سے آ رہا ہے؟ جوش و خروش تھا۔
عیسائی مائیں اپنے جوان بیٹوں کو رخصت کر رہی تھیں۔ بیویاں خاوندوں کو اور بہنیں بھائیوں
کو الوداع کہہ رہی تھیں۔ ایک فوج تیار ہوتی جا رہی تھی جس کی نفری تیزی سے بڑھتی جا
رہی تھی۔ کسریٰ کی فوج کے کماندار وغیرہ آ گئے تھے۔ وہ ان لوگوں کو ایک جگہ اکھٹاکرتے
جا رہے تھے جو کسریٰ کی فوج میں شامل ہو کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کیلئے آ رہے تھے۔
ایک بستی میں لڑنے والے عیسائی جمع ہو رہے تھے۔ سورج کبھی کا
غروب ہو چکا تھا ۔بستی میں مشعلیں گھوم پھر رہی تھیں اور شور تھا۔ بستی دن کی طرح بے
دار اور سر گرم تھی۔ دو آدمی جو اس بستی والوں کیلئے اجنبی تھے بستی میں داخل ہوئے
اور لوگوں میں شامل ہو گئے۔
’’ہم ایک للکار سن کر آئے ہیں۔‘‘ … ان میں سے ایک نے کہا۔ … ’’ہم روزگار
کی تلاش میں بڑی دور سے آئے ہیں اور شاید مدائن تک چلے جائیں۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘
’’تم ہو کون؟‘‘ …کسی نے ان سے پوچھا۔ … ’’مذہب کیا ہے تمہارا؟‘‘
دونوں نے اپنی اپنی شہادت کی انگلیاں باری باری اپنے دونوں کندھوں
سے لگائیں اور اپنے سینے پر انگلیاں اوپر نیچے کرکے صلیب کا نشان بنایا اور دونوں نے
بیک زبان کہا کہ وہ عیسائی ہیں۔
’’پھر تم مدائن جا کر کیا کرو گے؟‘‘ …انہیں ایک بوڑھے نے کہا۔ … ’’تم
تنومند ہو ۔تمہارے جسموں میں طاقت ہے ۔کیا تم اپنے آپ کو کنواری مریم کی آبرو پر
قربان ہونے کے قابل نہیں سمجھتے؟ کیا تمہارے لیے تمہارا پیٹ مقدس ہے؟‘‘
’’نہیں!‘‘ … ان میں سے ایک نے کہا۔ … ’’ہمیں کچھ بتاؤ اور تم میں جو
سب سے زیادہ سیانا ہے ہمیں اس سے ملاؤ۔ ہم کچھ بتانا چاہتے ہیں۔‘‘
…………bnb…………
وہاں فارس کی فوج کا ایک پرانا کماندار موجود تھا۔ ان دونوں
کو اس کے پاس لے گئے۔
’’سنا ہے تم کچھ بتانا چاہتے ہو؟‘‘ … کماندار نے کہا۔
’’ہاں۔‘‘ … ایک نے کہا۔ …’’ہم اپنا راستہ چھوڑ کر ادھر آئے ہیں۔ سنا
تھا کہ مسلمانوں کے خلاف ایک فوج تیار ہو رہی ہے۔‘‘
’’ہاں ہو رہی ہے۔‘‘ … کماندار نے کہا۔ … ’’ کیا تم اس فوج میں شامل
ہونے آئے ہو؟‘‘
’’عیسائی ہو کر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس فوج میں شامل نہیں ہوں
گے۔‘‘ … ان میں سے ایک نے کہا۔ … ’’ہم کاظمہ سے تھوڑی دور کی ایک بستی کے رہنے والے
عرب ہیں۔ ہم مسلمانوں کے ڈر سے بھاگ کر ادھر آئے ہیں۔ اب آگے نہیں جائیں گے۔ تمہارے
ساتھ رہیں گے۔ … ہم بتانا یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن سامنے
وہ بہت تھوڑی تعداد کو لاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمہاری فوج ان سے شکست کھا جاتی ہے۔‘‘
’’اسے زمین پر لکیریں ڈال کر سمجھاؤ۔‘‘ … اس کے دوسرے ساتھی نے اسے
کہا۔پھر ایرانی کماندار سے کہا۔ … ’’ہمیں معمولی دماغ کے آدمی نہ سمجھنا۔ہم تمہیں
اچھی طرح سمجھا دیں گے کہ مسلمانوں کے لڑنے کا طریقہ کیا ہے؟ اور وہ اس وقت کہاں ہیں؟
اور تم لوگ انہیں کہاں لا کر لڑاؤ تو انہیں شکست دے سکتے ہو۔ ہم جو کچھ بتائیں یہ
اپنے سالار کو بتا دینا۔‘‘
ایک مشعل لاکر اس کا ڈنڈہ زمین میں گاڑھ دیا گیا۔ یہ دونوں آدمی
زمین پر بیٹھ کر انگلیوں سے لکیریں ڈالنے لگے۔ انہوں نے جنگی اصطلاحوں میں ایسا نقشہ
پیش کیاکہ کماندار بہت متاثر ہوا۔
’’اگر ہمیں پتا چل جائے کہ مدائن کی فوج کس طرف سے آ رہی ہے تو ہم
تمہیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔‘‘ … ان میں سے ایک نے کہا۔ … ’’اور کچھ خطروں سے بھی
خبردار کر سکتے ہیں۔‘‘
’’دو فوجیں مسلمانوں کو کچلنے کیلئے آ رہی ہیں۔‘‘ … کماندار نے کہا۔
… ’’مسلمان ان کے آگے نہیں ٹھہر سکیں گے۔‘‘
’’بشرطیکہ دونوں فوجیں مختلف سمتوں سے آئیں۔‘‘ … ایک اجنبی عیسائی
نے کہا۔
’’وہ مختلف سمتوں سے ہی آ رہی ہیں۔‘‘ … کماندار نے کہا۔ … ’’ایک فوج
مدائن سے ہمارے بڑے ہی دلیر اور قابل سالار اندرزغر کی زیرِ کمان آ رہی ہے اور دوسری
فوج ایسے ہی ایک نامور سالار بہمن جاذویہ لا رہا ہے۔ دونوں دلجہ کے مقام پر اکھٹی ہوں
گی۔ ان کے ساتھ بکر بن وائل کا پورا قبیلہ ہو گا۔ چند چھوٹے چھوٹے قبیلوں نے بھی اپنے
آدمی دیئے ہیں۔‘‘
’’تو پھر تمہارے سالاروں کو جنگی چالیں چلنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ … دوسرے
نے کہا۔ … ’’تمہاری فوج تو سیلاب کی مانند ہے۔ مسلمان تنکوں کی طرح بہہ جائیں گے۔
… کیا تم ہم دونوں کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہو؟ ہم نے تم میں خاص قسم کی ذہانت دیکھی
ہے۔ تم سالار نہیں تو نائب سالار کے عہدے کے لائق ضرور ہو۔‘‘
’’تم میرے ساتھ رہ سکتے ہو۔‘‘ … کماندار نے کہا۔
’’ہم اپنے گھوڑے لے آئیں؟‘‘ … دونوں میں سے ایک نے کہا۔ … ’’ہم تمہیں
صبح یہیں ملیں گے۔‘‘
’’صبح کوچ ہو رہا ہے۔‘‘ … کماندار نے کہا۔ … ’’ان تمام لوگوں کو جو
لڑنے کیلئے جا رہے ہیں ایک جگہ جمع کیاجا رہا ہے۔تم ان کے ساتھ آ جانا۔ میں تمہیں
مل جاؤں گا۔‘‘
دونوں بستی سے نکل گئے۔ انہوں نے اپنے گھوڑے بستی سے کچھ دور
جا کر ایک درخت کے ساتھ باندھ دیئے اور بستی میں پیدل گئے تھے۔ بستی سے نکلتے ہی وہ
دوڑ پڑے اور اپنے گھوڑوں پر جا سوار ہوئے۔
’’کیا ہم صبح تک پہنچ سکیں گے بن آصف!‘‘ … ایک نے دوسرے سے پوچھا۔
’’خدا کی قسم! ہمیں پہنچنا پڑے گا خواہ اڑکر پہنچیں۔‘‘ … بن آصف نے
کہا۔ ’’یہ خبر ابنِ ولید تک بر وقت نہ پہنچی توہماری شکست لازمی ہے۔ گھوڑے تھکے ہوئے
نہیں۔ اﷲکا نام لو اور ایڑھ لگا دو۔‘‘
دونوں نے ایڑھ لگائی اور گھوڑے دوڑ پڑے۔
’’اشعر!‘‘ … بن اآصف نے بلند آواز سے اپنے ساتھی سے کہا۔ … ’’یہ تو
طوفان ہے۔ اب آ تش پرستوں کو شکست دینا آسان نہیں ہو گا۔ صرف بکر بن وائل کی تعداد
دیکھ لو، کئی ہزار ہو گی۔‘‘
’’میں نے اپنے سالار ابنِ ولید کو پریشانی کی حالت میں دیکھا تھا۔‘‘
… اشعر نے کہا۔
’’کیا تم اس کی پریشانی کو نہیں سمجھے اشعر؟‘‘ … بن آصف نے کہا۔ …
’’ہم اتنے طاقتور دشمن کے پیٹ میں آ گئے ہیں۔‘‘
’’اﷲہمارے ساتھ ہے۔‘‘ … اشعر نے کہا۔ … ’’آتش پرست اس زمین کیلئے لڑ
رہے ہیں جو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ہے اور ہم اﷲ کی راہ میں لڑ رہے ہیں جس کی یہ زمین
ہے۔‘‘
یہ دونوں گھوڑ سوار خالدؓ کے اس جاسوسی نظا م کے بڑے ذہین آدمی
تھے جو خالدؓ نے فارس کی سرحد کے اندر آ کر قائم کیا تھا۔ انہیں احساس تھا کہ وہ مدینہ
سے بہت دور اجنبی زمین پر آ گئے ہیں۔ جہاں اﷲ کے سوا ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں
ہے۔ خالد ؓنے دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے ہر طرف اپنے جاسوس بھیج رکھے تھے۔
…………bnb…………
ہر قسط کے آخر میں اپنی قیمتی آراء سے مستفید
فرمائیں۔

No comments:
Post a Comment