Featured Post

Khalid001

22 March 2020

Khalid112


شمشیر بے نیام

سیدنا خالد بن ولیدؓ کی حیات پر عنایت اللہ التمش کے قلم سے لا زوال تحریر

قسط نمبر:  112
لڑائی شدت اختیار کرتی گئی۔شرحبیلؓ کو توما کی آواز حیران کر رہی تھی، اور توما شرحبیلؓ کو ڈھونڈ رہا تھا۔اس کی دلیری غیر معمولی تھی۔اسے چاندنی میں مسلمانوں کا پرچم نظر آگیا، اور وہ شرحبیلؓ کو للکار کر ان کی طرف بڑھا۔شرحبیلؓ اس کے مقابلے کیلئے تیار ہو گئے۔
’’ایک آنکھ کے بدلے ایک ہزار آنکھیں لوں گا۔‘‘ … توما نے کہا۔
’’خدا کی قسم!تو دوسری آنکھ بھی دینے آیا ہے۔‘‘ … شرحبیلؓ نے کہا۔
دونوں آمنے سامنے آگئے،اور دونوں گھوڑوں سے اترآئے۔دونوں کے ہاتھوں میں تلواریں اور ڈھالیں تھیں اور دونوں تیغ زنی کے ماہر تھے۔شرحبیلؓ کو توقع تھی کہ توما کی ایک ہی آنکھ ہے اور اس کی دوسری آنکھ بھی زخمی ہے اس لیے وہ لڑ نہیں سکے گالیکن وہ پوری مہارت سے لڑ رہا تھا۔شرحبیلؓ کو یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تیر ابھی توما کی آنکھ میں ہی ہے۔
شرحبیلؓ کا ہر وار توما بچا جاتا تھا، اور توما کا ہر وار شرحبیلؓ بچا رہے تھے۔شرحبیلؓ نے ایک وار بڑا ہی زور دار کیا، ان کی تلوار پہلے توما کی آہنی خود پر لگی، اور وہاں سے پھسل کر کندھے پر لگی جہاں آہنی زرہ تھی۔اتنا زور دار وار لوہے پر پڑا تو تلوار ٹوٹ گئی۔توما نے للکار کر وار کیا، جو شرحبیلؓ نے ڈھال پر لیا۔وہ اب تلوار کے بغیر تھے ،وار صرف روک سکتے تھے۔توما بڑھ بڑھ کر وار کر رہا تھا۔
شرحبیلؓ کے دو مجاہدین نے دیکھ لیا کہ شرحبیلؓ تلوار کے بغیر خطرے میں ہیں تو وہ شرحبیلؓ اور توما کے درمیان آگئے۔شرحبیلؓ نے اِدھر اُدھر دیکھا،وہ کسی کی تلوار ڈھونڈ رہے تھے ۔کچھ دور انہیں اپنے ایک شہید مجاہد کی لاش کے قریب اس کی تلوار پڑی نظر آئی۔انہوں نے دوڑ کر تلوار اٹھا لی اور واپس آئے لیکن توما وہاں نہیں تھا،شرحبیلؓ نے اپنے دونوں مجاہدین سے پوچھا کہ توما کہاں ہے؟انہوں نے بتایا کہ وہ پیچھے ہٹتے ہٹتے لڑائی کے ہنگامے میں گم ہو گیا ہے۔انہوں نے اسے گھوڑے پر سوارہوتے دیکھا تھا۔
شرحبیلؓ کے اعصاب پر بڑا تکلیف دہ دباؤتھا۔انہیں پوری طرح یقین نہیں تھا کہ وہ رومیوںکو شکست دے سکیں گے۔لڑنے میں شرحبیلؓ اور ان کے دستے نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ انہوں نے چند سو سواروں کو الگ کرکے پہلو سے رومیوں پر ایک زور دار ہلّہ بولا۔کچھ تو اس ہلّے نے کام کیا،کچھ رومی مایوس ہو گئے اور وہ پیچھے ہٹنے لگے، رومیوں میں یہ خوبی تھی کہ وہ بے ترتیب ہو کر نہیں بھاگتے تھے بلکہ ترتیب اور تنظیم سے پیچھے ہٹتے تھے۔ شرحبیلؓ نے انہیں پیچھے ہٹتے دیکھا تو ان کے پیچھے نہ گئے کیونکہ مسلمانوں کی نفری تھوڑی رہ گئی تھی۔ شرحبیلؓ خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے،پیچھے جانے کے بجائے انہوں نے تیراندازوں کو آگے کرکے پیچھے ہٹتے ہوئے رومیوں پر تیروں کا مینہ برسا دیا۔ رومی اپنی لاشوں اور زخمیوں کو پیچھے چھوڑتے،دروازے میں جا کر غائب ہو گئے۔
…………bnb…………


رومی جس دروازے سے بھی باہرآئے تھے وہ لاشیں اور زخمی پھینک کر اُسی دروازے سے اندر چلے گئے۔سب سے بڑا حملہ توما نے کیا تھا وہ بھی ناکام رہا۔اگر بات ناکامی تک ہوتی تو رومی ایسے حملے پھر بھی کر سکتے تھے لیکن انہیں جو جانی نقصان اٹھانا پڑاوہ ان کی برداشت سے باہر تھا۔ان کی نفری پہلے ہی کچھ اتنی زیادہ نہیں تھی اور اب تو آدھی رہ گئی تھی،توما کیلئے ایک دشواری یہ پیدا ہو گئی کہ جب شہر پناہ کے دروازے بند ہو گئے اور توما شہر میں آکر رکا تو کئی شہریوں نے اسے گھیر لیا۔
’’سالارِ معظم!‘‘ شرجیلایک آدمی نے کہا۔ شرجیل’’ہم سلطنتِ روم کے وفادار ہیں۔ہم نہیں چاہتے کہ روم کی شہنشاہی کو مزید نقصان پہنچے۔ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کی بات کی جائے۔‘‘
’’شہریوںمیں جو بے چینی اور بد امنی پھیل چکی ہے اسے آپ نہیں دیکھ رہے۔‘‘ شرجیلایک اور نے کہا۔ شرجیل’’فوج جو نقصان اٹھا چکی ہے وہ آپ کے سامنے ہے اور آپ خود بھی زخمی ہیں، خطرہ ہی ہے کہ شہری جو اب نیم فاقہ کشی تک پہنچ گئے ہیں اپنی ہی فوج کیلئے نقصان کا باعث بن جائیں گے۔‘‘
توما جابر قسم کا سالار تھا۔اس کی دلیری اور عزم کی پختگی میں کوئی شک نہیں تھا لیکن اس کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ جو شہری اس کے ساتھ بات کرتا تھا وہ اس شہری کی طرف دیکھنے لگتا تھا۔یہ وہ توما تھا جو کسی کی بات برداشت نہیں کرتا تھا۔اس کے چہرے کے تاثرات میں شکست صاف نظر آرہی تھی۔اس نے اپنی اس آنکھ پر ہاتھ رکھ لیا جس کے اندر تیر کا ایک ٹکڑا موجود تھااور اوپر پٹی بندھی ہوئی تھی۔صاف پتا چلتا تھا کہ اسے یہ زخم پریشان کر رہا ہے۔
’’مجھے سوچنے دو۔‘‘ شرجیلاس نے ہاری ہوئی آواز میں کہا۔ شرجیل’’میں صلح کر لوں گا لیکن کوئی ایسی شرط نہیں مانوں گا جو روم کی شہنشاہی کی تذلیل کا باعث بنے۔‘‘
دراصل توما ذہنی طور پر شکست تسلیم کر چکا تھا۔اس کے سامنے اب یہی ایک مسئلہ رہ گیا تھا کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ باعزت سمجھوتہ ہوجائے۔مؤرخوں کے بیانات کے مطابق اسے کسی نے یہ بتایا تھا کہ مسلمانوں کے نائب سالار ابوعبیدہؓ نرم مزاج اور صلح جو انسان ہیں۔اگر ان تک رسائی ہوجائے تو باعزت سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔خالدؓ کے متعلق وہ جانتا تھا کہ وہ مکمل شکست اور ہتھیار ڈالنے سے کم بات نہیں کرتے۔توما نے اپنے مشیروں کو بلایا۔
باہر مسلمانوں کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے حوصلے بڑھ گئے تھے اور وہ للکار ہے تھے کہ رومیو!شہر ہمارے حوالے کردو۔ لیکن شہر میں داخل ہونے کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتاتھا۔خالدؓ نے فیصلہ کرلیا کہ مجاہدین کو ایک دو دن آرام کیلئے دے کر شہر کے دروازے توڑنے کی یا دیوار میں سرنگ لگانے کی کوشش کریں گے۔
صبح طلوع ہوئی تو اﷲنے ایک غیر مسلم کو خالدؓ کے سامنے کھڑا کردیا۔یہ ایک یونانی تھا جس کا نام یونس ابن مرقس تھا۔وہ رات کے وقت جب رومی اندر بیٹھے اپنے زخم چاٹ رہے تھے، شہر کی دیوار سے ایک رسّے کے ذریعے اترا تھا۔اس نے کہا کہ وہ ایک لڑکی کو حاصل کرنے کیلئے اپنی جان کا خطرہ مول لے کر آیا ہے۔یہ لڑکی بھی یونانی تھی اور یہ ۱۸ ستمبر ۶۳۴ء (۱۹ رجب ۱۳ھ) کا واقعہ ہے۔
…………bnb…………


۱۸ ستمبر ۶۳۴ء کی رات تھی۔خالدؓ کو بتایا گیا کہ قلعے کے اندر سے ایک آدمی آیا ہے جو اپنا نام یونس ابن مرقس بتاتا ہے۔
’’وہ قلعے سے نہیں آیا۔‘‘ … خالدؓ نے کہا۔ … ’’اگر قلعے کے اندر ہی سے آیا ہے تو صاف نیت سے نہیں آیا،اگر باہر سے آیا ہے تو بھی اس کی نیت ٹھیک نہیں ہو سکتی۔وہ رومیوں کا جاسوس ہو گا … اسے میرے پاس بھیج دو۔‘‘
وہ ایک جواں سال آدمی تھا۔خوبرو اور پھرتیلا تھا۔خالدؓ کے دو محافظوں نے اس کی تلاشی لی۔اس نے کمر بند میں ایک خنجر اڑسا ہوا تھا جو اس نے چھپا کر نہیں رکھا تھا۔یہ اس سے لے کر اسے خالدؓ کے خیمے میں بھیج دیا گیا۔خالدؓ نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا پھر اس پر نظریں جما دیں۔
’’سالارِ اعلیٰ مجھے شک کی نگاہوں سے دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ … اس جواں سال آدمی نے کہا۔ … ’’میں آپ کے دشمن کے قلعے سے آیا ہوں۔آپ کو مجھ پر شک کرنا چاہیے… میرا نام یونس ابن مرقس ہے اور میں یونانی ہوں۔آپ کی اور رومیوں کی جنگ کے ساتھ مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘
’’یونان کے جوان!‘‘ … خالدؓ نے کہا۔ … ’’کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اپنے آنے کا مقصدفوراً بتا دو؟‘‘
’’مقصد میرا ذاتی ہے۔‘‘ … یونس ابن مرقس نے کہا۔ … ’’اگر آپ یہ پورا کردیں تو میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔‘‘
’’تُو میری کیا مدد کر سکتا ہے؟‘‘
’’میں آپ کو قلعے کے اندر پہنچا سکتا ہوں۔‘‘ … یونس ابن مرقس نے کہا۔ … ’’پھر دمشق آپ کا ہوگا۔‘‘
’’تو قلعے سے نکلاکیسے؟‘‘ … خالدؓ نے کہا۔ … ’’میں کیسے یقین کروں کہ تو جھوٹ نہیں بول رہا؟‘‘
’’میں باب الشرق کے قریب فصیل سے رسہ لٹکا کر اترا ہوں۔‘‘ … یونس ابن مرقس نے کہا۔ … ’’میرے آنے کا مقصد بھی سن لیں سالارِ اعلیٰ!دمشق میں یونانیوں کے تین چار خاندان آبادہیں۔ایک یونانی لڑکی کے ساتھ میری محبت ہے۔میں آپ کونہیں بتا سکتا کہ ہم ایک دوسرے کو کس قدر چاہتے ہیں۔آپ کی فوج نے دمشق کا محاصرہ کیا تو اس سے تھوڑی ہی دیر پہلے اس لڑکی کے ساتھ میری شادی ہو گئی۔ اتنے میں شور اٹھا کہ مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا ہے۔لڑکی کے والدین نے لڑکی کو میرے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ کہتے ہیں کہ محاصرہ ٹوٹ جانے کے بعد ہی لڑکی کو میرے حوالے کریں گے۔‘‘
’’سالارِ اعلیٰ! … میں محبت کے ہاتھوں اتنا مجبور ہوں کہ انتظار نہیں کر سکتا۔دراصل لڑکی کی ماں کی نیت ٹھیک نہیں۔ وہ اپنی بیٹی کی شادی ایک بڑے ہی مالدار تاجر کے ساتھ کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی بیٹی نے میری محبت کی خاطر اسے مجبور کر دیا کہ اس کی شادی میرے ساتھ کردے۔آپ کی فوج نے شہر کو محاصرے میں لے لیا تو اسے بہانہ مل گیا۔ اس نے کہا کہ ہر کوئی شہرکے دفاع میں لگا ہوا ہے اچھا نہیں لگتا کہ تم دونوں شادی کی تقریب مناؤ۔‘‘
’’لیکن میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘ … خالدؓ نے کہا۔ … ’’کیا میں یہاں محبت کی داستانیں سننے آیا ہوں؟تو وہ بات فوراً کیوں نہیں کہہ دیتا جو تو کہنے آیا ہے۔اگر تو یہاں کسی اورنیت سے آیا ہے تو تو یہاں سے زندہ کس طرح جائے گا۔‘‘
’’آہ ابنِ ولید!‘‘ … یونس ابن مرقس نے آہ لے کر کہا۔ … ’’کون ہے جو تیرے خیمے میں بری نیت سے آنے کی جرأت کر سکتا ہے۔جس نے سلطنت روم جیسے عظیم اور جابر سلطنت کی بنیادوں تک کو ہلا ڈالا ہے اسے مجھ جیسے معمولی آدمی سے نہیں ڈرنا چاہیے … اور یہ بھی سوچ کہ میں رومی نہیں یونانی ہوں۔مجھے صرف اپنی بیوی چاہیے اور تجھے دمشق … راز کی بات یہ ہے کہ تین چار دن لڑائی نہیں ہوگی۔‘‘
’’کیوں نہیں ہوگی؟‘‘
’’دمشق کا سالار توما زخمی ہے۔‘‘ … یونس ابن مرقس نے جوا ب دیا۔ … ’’لیکن لڑائی نہ ہونے کی صرف یہ وجہ نہیں۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہر کے لوگ سالار توما کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ بندی اور صلح کی بات کرے۔شہر میں اناج کی قلت قحط کی حد تک پہنچ گئی ہے،اور سب سے بڑی وجہ لڑائی نہ ہونے کی یہ ہے کہ کل رات دمشق کے لوگوں کا ایک جشن ہے جس میں روم کی فوج بھی شریک ہوگی۔کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہوگا۔میں آپ کی یہ مدد کروں گا کہ فصیل پر کمند پھینکنے کی موزوں جگہ بتا دوں گا۔ آپ کے چند ایک آدمی فصیل پر چڑھ آئیں اور اندر سے ایک دروازہ کھول دیں پھر آپ کی فوج شہر میں داخل ہو جائے۔‘‘
بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اہلِ دمشق اپنا کوئی سالانہ جشن منا رہے تھے۔ایسے جشن میں وہ اتنی زیادہ شراب پیتے اور رنگ رلیوں میں ایسے مگن ہوتے تھے کہ انہیں اپنے پرائے کی ہوش نہیں رہتی تھی،اور فوج بھی اس میں شریک ہوتی تھی لیکن اب ایسی حالت میں دمشق والوں کا ایسا جشن منانا کہ وہ اپنے ہوش و حواس بھی کھو بیٹھیں قابلِ یقین نہیں لگتا تھا۔ دمشق کے اندر کی حالت بیان کی جا چکی ہے۔وہاں تو قحط اور خوف و ہراس کی کیفیت تھی۔روم کی فوج کی بے شمار نفری ماری جا چکی تھی۔ لاشیں باہر گل سڑرہی تھیں اور زخمی اندر کراہ رہے تھے۔ ان حالات میں جشن کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
ایک یورپی مؤرخ ہنری سمتھ نے اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے وہ حقیقی لگتا ہے۔اس نے شام سے رومیوں کی پسپائی کے بیان میں لکھا ہے کہ دمشق کے محاصرے میں رومیوں کی حالت اتنی بری ہو گئی تھی کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر آگئے تھے۔ ان کے مذہبی پیشواؤں نے رومی سالار توما سے کہا تھا کہ ان سے خدا ناراض ہے۔ خدا کو راضی کرنے کیلئے مذہبی قسم کے جشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔ دمشق میں دوسرے عقیدوں کے لوگ بھی تھے جو اپنے انداز سے مذہبی تقریب منعقد کر رہے تھے۔ چونکہ یہ مذہب کا اور فتح کیلئے دعا کا معاملہ تھا اس لیے ا س میں ہرکسی کی شرکت لازمی تھی۔ فوج کو بھی اس میں شامل ہونا تھا۔
اس یورپی مؤرخ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ مسلمان قلعے پر چڑھائی کردیں گے،یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔مسلمانوں کی اپنی حالت ایسی مضبوط نہیں رہی تھی کہ وہ ہلہ بول دیتے۔ یہ تو خالدؓ کا عزم تھا اور انہیں اپنے تمام سالاروں کا بھرپور تعاون حاصل تھا کہ دمشق کو چند دنوں میں سر کرنا ہے۔
یونس ابن مرقس کے متعلق تمام مؤرخ متفق ہیں۔ اس نے خالدؓ کو قائل کر دیا کہ وہ انہیں قلعے میں داخل کر دے گا اور اس کے عوض وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اسے دلا دی جائے۔ خالدؓنے اس یونانی پر اعتبار کر لیااور اسے سب سے پہلے اسلام کی دعوت دی۔
’’میں نے اسلام کے متعلق بہت کچھ سنا ہے۔‘‘ … یونس ابن مرقس نے کہا۔ … ’’لیکن مجھے کوئی بتانے والا نہیں تھا اور میرا ہاتھ تھامنے والا کوئی نہ تھا۔مجھے اپنے پاس رکھیں، میں اسلام قبول کرتا ہوں۔کیا مجھے اپنا نام بدلنا پڑے گا؟‘‘
’’نہیں!‘‘… خالدؓ نے کہا۔ … ’’تمہارا نام پہلے ہی اسلامی ہے۔‘‘
خالدؓ نے اسے مسلمان کر لیا اور اس سے پوچھنے لگے کہ کمند کہاں اور کس طرح لگائی جائے،اور اندر کی طرف دروازے کی حفاظت کا کیا انتظام ہے؟
یونس ابن مرقس نے انہیں پوری تفصیل سے سب کچھ بتایا۔
…………bnb…………


یونس ابن مرقس کو اتنا ہی معلوم تھا کہ دو تین دن لڑائی نہیں ہو گی، اور کل رات لوگ ایک جشن یا تقریب منائیں گے۔اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ رومی سالار توماہمت ہار چکا ہے،اور وہ کوئی اور چال چل رہا ہے۔یہ چال توما اور اس کے مشیروں نے مل کر سوچی تھی۔جس طرح مسلمانوں کے پاس اسی علاقے کے جاسوس موجود تھے ۔اسی طرح رومیوں کے پاس ایسے جاسوس موجود تھے جو خالدؓ اور اس کے تمام سالاروں کے کردار اور عادات کے تعلق پوری واقفیت رکھتے تھے۔یہ عرب کے عیسائی تھے اور مکہ ،مدینہ اور انہی علاقوں کے رہنے والے یہودی بھی تھے۔یہ سب صرف جاسوس ہی نہیں تھے بلکہ ان میں سے دو چار توما کے مشیر بھی بنے ہوئے تھے۔
توما نے باہر نکل کر مسلمانوں پر حملے کیے تھے پورا زور لگا لیا تھا مگر صرف جانی نقصان کے اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو اتھا۔شہریوں نے اسے الگ پریشان کر رکھا تھا۔ شہر میں خوراک ختم تھی اور اس کی اپنی حالت یہ تھی کہ ایک تیر کا اگلا حصہ اس کی آنکھ میں اترا ہوا تھا اور اوپر پٹی بندھی ہوئی تھی۔
’’پھر بھی میں شہر کو تباہی اور لوٹ مار سے اور لوگوں کے قتلِ عام سے بچانا چاہتا ہوں۔‘‘ … توما نے اپنے سلاروں اور مشیروں کو بلاکر انہیں اپنی صورتِ حال بتائی اور کہا … ’’ہم اب لڑ نہیں سکتے۔مسلمان آسانی سے اندر نہیں آسکتے لیکن اناج اور رسد کا جو حال ہے وہ تم سب جانتے ہو مسلمانوں نے صرف محاصرہ ہی جاری رکھا تو لوگ بھوک سے مرنے لگیں گے۔‘‘
’’اور وہ بغاوت بھی کر سکتے ہیں۔‘‘ … ایک مشیر نے کہا۔
’’بغاوت کریں یا نہ کریں۔‘‘ … توما نے کہا۔ … ’’یہ میرافرض ہے کہ انہیں ہر تکلیف سے بچائے رکھوں۔مجھے تمہارے مشوروں کی ضرورت ہے ۔کیا کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ ہم شہر خالی کرنا چاہیں تو مسلمان ہمیں اجازت دید یں اور ہمیں کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔‘‘
’’خالدابنِ ولید بڑا جابر سالار ہے۔‘‘ … ایک یہودی مشیر نے کہا۔ … ’’وہ ہمیں پر امن طریقہ سے نہیں نکلنے دے گا۔ا س کی فوج کا جو نقصان ہو چکا ہے وہ بھی نہیں بخشے گا۔ ہمیں کہے گا اسلام قبول کرو۔‘‘
’’یہ میں کبھی نہیں کروں گا۔‘‘ … توما نے کہا۔
’’اگر آپ نہیں کریں گے تو وہ آپ سے اتنا تاوان مانگے گا جو آپ اپنے خزانے کے علاوہ لوگوں کے گھروں سے اکٹھا کریں تو بھی مشکل سے پورا ہوگا۔‘‘ … یہودی مشیر نے کہا۔
توما گہری سوچ میں پڑ گیا۔
ان میں کوئی سالار ایسا ہے جو نرم مزاج ہو؟‘‘ … اس نے پوچھا۔
’’ابو عبیدہ!‘‘ … یہودی نے جواب دیا۔ … ’’بڑا ہی قابل بڑا ہی دلیر سالار ہے۔مگر رحم دل ہے۔‘‘
’’اپنی فوج میں اس کی حیثیت کیا ہے؟‘‘
’’ابنِ ولید کے بعد حیثیت ابو عبیدہ کی ہے۔‘‘ … دوسرے یہودی نے کہا۔ … ’’ان کی خلافت میں جو قدرومنزلت ابو عبیدہ کی ہے وہ ابنِ ولید کی نہیں۔ابنِ ولید کا درجہ اس کے بعد کا ہے۔تمام مسلمان خود خلیفہ اور ابنِ ولید ابو عبیدہ کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
یہاں سے توما کے دماغ میں ایک فریب کاری آگئی۔یہودی اور عیسائی عرب مشیروں اور دانشوروں نے اس کی رہنمائی اور مدد کی،اور ایک منصوبہ تیار ہو گیا۔جو مختصراً اس طرح تھا کہ توما ابو عبیدہ کے آگے اس شرط پر ہتھیار ڈالے گا کہ اسے اس کی فوج اور شہر کے ہر اس باشندے کو جو شہر چھوڑ کر جانا چاہے اسے اس کے مال و اسباب وعورتوں اور بچوں سمیت نکل جانے دیا جائے۔شہر میں لوٹ مار نہ ہو۔تومانے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ جزیہ اداکرے گا یہ بھی طے پایا کہ خالدؓ کو قبل از وقت پتا نہ چلے۔
یہ منصوبہ اس بنیاد پر بنایا گیا تھا کہ ابو عبیدہ شہر کے اس دروازے )باب جابیہ(کے سامنے اپنے دستوں کے ساتھ تھے۔جو اس دروازے )باب الشرق(کے بالمقابل تھا۔دونوں دروازوں کے درمیان پورا شہر حائل تھا اور فاصلہ ایک میل سے کچھ زیادہ تھا توما آسانی سے اپنے ایلچی ابو عبیدہ کے پاس بھیج سکتا تھا۔
توما نے یہ کانفرنس اس رات سے دو تین راتیں پہلے منعقد کی تھی جس رات یونس ابن مرقس خالدؓ کے پاس آیا تھا۔
…………bnb…………
ہر قسط کے آخر میں اپنی قیمتی آراء سے مستفید فرمائیں۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages